h1

غلام محمد بلوچ کے اغواء کا واقعہ

اپریل 27, 2009

شیر محمد میرے ساتھ بیٹھا تھا۔ غلام محمد اور لالہ منیر میرے کمرے میں داخل ہوئے تو یہ باتیں ہو رہی تھیں کہ باہر دو تین گاڑیاں کھڑی ہیں اور ایک گاڑی تو ہمارے دفتر کے سامنے ہے جس پر غلام محمد نے کہا کہ یہ ہر وقت اپنا رعب دبدبہ ڈالنے کے لیے ایسا کرتے رہتے ہیں اب اگر آئے ہیں تو ہم کیا کر سکتے ہیں‘۔

یہ الفاظ ہیں بلوچستان اسمبلی کے سابق اپوزیشن لیڈر اور بلوچ رہنماؤں کے وکیل کچکول علی ایڈووکیٹ کے جو اس وقت بلوچ رہنماوں کے ساتھ تھے جب انھیں اٹھایا گیا تھا۔
کچکول علی ایڈووکیٹ نے سارا واقعہ کچھ یوں بتایا ہے کہ عدالت میں پیش ہونے کے بعد وہ اور شیر محمد اپنے دفتر میں آئے ۔ غلام محمد اور لالہ منیر ایک اور وکیل ظہور کے پاس چلے گئے اور کہا کہ وہ ابھی آ رہے ہیں ۔

انھوں نے بتایا کہ دفتر میں آنے کے بعد انھوں نے اپنے جوتے پالش کے لیے دیے اور اس دوران ایک شخص کمرے میں آیا اور کہا کہ اس نے بھی جوتے پالش کے لیے دیے ہیں تو وہ یہاں دفتر میں تھوڑی دیر بیٹھنا چاہتا ہے۔

کچکول کے مطابق انھیں دیگر وکیلوں نے بتایا کہ یہ لوگ فورسز کے ہیں اور باہر گاڑیاں بھی ہیں۔ اس دوران غلام محمد اور لالہ منیر بھی کمرے میں آگئے۔

کچکول علی نے بتایا کہ چار پانچ منٹ ہی گزرے تھے کہ اتنے میں پانچ چھ مسلح افراد ہمارے کمرے میں داخل ہوئے اور پہلے ایک وکیل حسن کے ہاتھ باندھے اس کے بعد انھوں نے لالہ منیر غلام محمد اور پھر شیر محمد جو میرے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے ان کے ہاتھ باندھے۔
کچکول علی نے کہا کہ ’میں نے یہ سمجھا کہ اب میری باری ہے لیکن وہ اہلکار ان افراد کو اٹھا کر لے گئے اور وکیل کے تعارف کرنے کے بعد انھیں رہا کر دیا تھا‘۔
اس دوران باہر موجود وکیلوں نے اندر آنے کی کوشش کی لیکن انھیں اندر نہیں آنے دیا گیا لیکن دفتر میں موجود دیگر وکلا میں سے کسی نے بھی انھیں نہیں روکا کیونکہ مسلح افراد نے بندوق کی نوک پر انھیں اٹھایا ہے۔

کچکول نے بتایا کہ غلام محمد وغیرہ نے مزاحمت کی کوشش کی اور وکیلوں نے انھیں درخواست کی کہ یہ وکیل کا دفتر ہے اور آپ ایسا نہیں کر سکتے لیکن انھوں نے کچھ نہیں سنا۔ کچکول نے بتایا کہ سب افراد سادہ کپڑوں میں ملبوس تھے اور سب نے اسلحہ اٹھایا ہوا تھا۔

کچکول علی ایڈووکیٹ کے مطابق انہوں نے اس کے بعد انسداد دہشت گردی کی عدالت میں درخواست دی اور جج نے درخواست بلوچستان ہائی کورٹ کو بھیجی کہ یہ توہین عدالت ہے کیونکہ تینوں رہنما ضمانت پر تھے لیکن اس بارے میں کچھ نہیں ہوا۔

انھوں نے دوسرے روز تربت تھانے میں دیگر وکلاء کے ہمراہ ایک ایف آئی آر درج کی جس میں آئی ایس آئی، ایم آئی، آئی بی کمانڈنٹ ایف سی کو نامزد کیا کہ انھوں نے ان افراد کو میرے دفتر سے اٹھایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کے بعد انہوں نے سیشن کورٹ میں بھی حبس بے جا کی درخواست دی لیکن ان کی کوئی سنوائی نہیں ہوئی۔

کچکول نے بتایا کہ اس وقت اس طرح کے ہزاروں بلوچوں کو اٹھایا گیا ہے اور ہم نے ہر جگہ پر درخواستیں دی لیکن سارے دروازے بلوچوں کے لیے بند ہیں اور جب تک بند ہیں کچھ نہیں ہوگا۔

انھوں نے بتایا کہ پھر کوئی چھ روز بعد ادھر تربت سے کوئی پینتیس کلومیٹر دور مرغگاپ کے مقام پر تینوں رہنماؤں کی مسخ شدہ لاشیں ملی گئی تھیں۔

کچکول علی نے بتایا کہ جب میرے دفتر میں بیٹھے تھے تو غلام محمد کے چہرے پر سرخی تھی اور وہ بہت خوبصورت نظر آ رہے تھے جس پر انھیں ساتھیوں نے کہا کہ غلام محمد کیا بات ہے آج بہت خوبصورت نظر آ رہے ہو۔ کسی کو یہ معلوم نہیں تھا کہ غلام محمد جو ایک حقیقی سیاسی کارکن تھا ان کے شاید یہ آخری لمحات تھے۔

%d bloggers like this: