h1

شہید شیر محمد بلوچ ،ایک تعارف

اپریل 27, 2009

شیر محمد بلوچ شہید1971ءمیں مند میں پیدا ہوئے ابتدائی تعلیم مند کے ہائی اسکول سے حاصل کرنے کے بعد کراچی میں گورنمنٹ نیشنل کالج سےگریجویشن کیا ،وہ زمانہ طالب علمی میں ہی طلباءسیاست سے منسلک ہوگئے تھے ۔شیر محمد نے زمانہ طالب علمی ہی میں سیاست کا آغازکیا، وہ1986ءمیں مند زون کے صدر بھی رہے ، تعلیم سے فراغت کے بعد وہ کچھ عرصہ سیاست سے دور رہے لیکن 2005ءمیں ایک بار پھر شہید نواب اکبرخان بگٹی کی پارٹی جمہوری وطن پارٹی میں شامل ہوگئے۔ ۔3دسمبر 2006کو آٓپ کوغلام محمد بلوچ کے ہمراہ علی محمد محلہ (اولڈ کلرّی آل پاکستان زکری انجمن) میں ایک عوامی اجتماع کے دوران کراچی سے اغواءکیا گیا۔دونوں رہنماﺅں کو 20ستمبر 2007کو سبی میں منظر عام پر لائے گئے اور پولیس نے آپ کے خلاف خضدار،تربت اور مند میں بم دھماکوں اور سر کاری اہلکاروں پر حملوں کے 4جھوٹے مقدمات قائم کیے جن میں سے دو میں آپ باعزت طور پر بری ہوئے تھے ۔جب نواب اکبرخان بگٹی کوشہید کردیا گیا اور جے ڈبلیوپی کی قیادت نے پارٹی کے منشور او ر نام کو تبدیل کرکے بلوچ ری پبلیکن پارٹی رکھا آپ بی آر پی کے پلیٹ فارم سے بلوچ وطن کی آزادکی جدوجہد میں مصروف رہے ۔آپ نے کراچی میں شادی کی تھی ۔چھ بچوںکے باپ تھے جن میں چار بیٹے اور دوبیٹیاں شامل ہیں ۔آپ کا ذریعہ معاش کراچی میں ٹرانسپورٹ تھا ۔ آپ(شہید شیر محمد ) کوآپ کے دواور ساتھی بی این ایم کے سینٹرل کمیٹی کے رکن لالہ منیر اوربی این ایم کے صدر غلام محمد کے ساتھ کچکول علی ایڈوکیٹ کے دفتر پاکستانی ایجنسیوں کے اہلکاروں نے اغواءکے بعد تربت سے کوئی 12کلومیٹر دور مرغاپ کے مقام پر لے جاکر شہید کردیا۔

%d bloggers like this: