h1

غلام محمد بلوچ: ’بلوچوں کا غریب ہیرو

اپریل 25, 2009

غلا م محمد بلوچ 1969ءکو مند ( سورو) میں پید اہوئے ۔ابتدائی تعلیم مند ہائی اسکو ل سے حاصل کی ، اس کے بعد مزید تعلیم کے لیے کراچی منتقل ہوگئے ۔کراچی جناح کالج سے انٹر کرنے کے بعد جامعہ بلوچستان سے گریجویشن اور بلوچی میںماسٹرکی ڈگریاں حاصل کیں ۔شہید ایک اچھے شاعربھی تھے ۔1988میں بی ایس او کے مرکزی جنرل سیکریٹری اور 1990سے 1994تک دوباربی ایس او کے مرکزی چیئر مین رہے ۔طلباءسیاست کے بعد وہ بی این ایم میں شامل ہوگئے ۔بی این ایم کے مرکزی نائب صدر کے عہدے پر فائز رہے ۔2005ءمیں جب بی این ایم کی قیادت نے بی این ڈی پی سے انضام کا فیصلہ کیا توغلام محمد شہید نے اس فیصلے سے اختلاف کرتے ہوئے بی این ایم کو برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ۔ 2مئی کو بی این ایم کے سیشن میں آپ بی این ایم کے صدر منتخب کیے گئے۔آپ بلوچ نیشنل فرنٹ کے پہلے آرگنائزر اور (شہادت سے پہلے ) جنرل سیکریٹری کے طور پر کام کررہے تھے ۔3دسمبر 2006کو ٓپ کو شیر محمد بلوچ کے ہمراہ علی محمد محلہ (اولڈ کلرّی آل پاکستان زکری انجمن) میں ایک عوامی اجتماع کے دوران کراچی سے اغواءکیا گیا۔دونوں رہنماﺅں کو 20ستمبر 2007کو سبی میں منظر عام پر لائے گئے اور پولیس نے آپ کے خلاف خضدار،تربت اور مند میں بم دھماکوں اور سر کاری اہلکاروں پر حملوں کے 4جھوٹے مقدمات قائم کیے جن میں سے دو میں آپ باعزت طور پر بری ہوئے تھے ۔3اپریل 2009کوباقی دومقدمات کے سلسلے میں عدالت میں پیشی کے بعد آپ کو آپ کے دواور ساتھی بی این ایم کے سینٹرل کمیٹی کے رکن لالہ منیر اور بی آرپی کے مرکزی ڈپٹی جنرل سیکریٹری شیر محمد بلوچ کے ساتھ کچکول علی ایڈوکیٹ کے دفتر سے پاکستانی ایجنسیوں کے اہلکاروں نے اغواءکے بعد تربت سے کوئی 12کلومیٹر دور مرغاپ کے مقام پر لے جاکر شہید کردیا۔آپ (شہیدغلام محمد ) نے دوشادیاں کی تھیں اور چھ بچوں کے باپ تھے ۔

%d bloggers like this: